ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی کا خطرناک کھیل کر سکتا ہے شمال مشرقی کو غیر مستحکم:کانگریس

بی جے پی کا خطرناک کھیل کر سکتا ہے شمال مشرقی کو غیر مستحکم:کانگریس

Tue, 06 Mar 2018 12:32:37    S.O. News Service

نئی دہلی،05؍ مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کانگریس نے بی جے پی پر شمال مشرقی علاقے کو غیر مستحکم کرنے کا خطرناک کھیل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ بھگوا پارٹی کے زبردستی اقتدارمیں آنے سے ہر ہندوستانی فکر مند ہے۔شمال مشرقی کے تین ریاست کے انتخابات میں گزشتہ ہفتے نتائج کا اعلان کیا گیا جہاں تریپورہ اور ناگالینڈ میں کانگریس کا کھاتہ بھی نہیں کھل سکا وہیں میگھالیہ میں 21 سیٹیں لا کر وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔بہرحال کانگریس میگھالیہ میں بھی حکومت نہیں بنا پائے گی کیونکہ ریاست کے گورنر گنگاپرساد نے این پی پی رہنما کونراڈ کے سنگما کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔این پی پی کو بی جے پی حمایت دے رہی ہے۔کانگریس نے ساتھ ہی آج تریپورہ، ناگالینڈ اور میگھالیہ کے لوگوں کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کہ ان ریاستوں کی نئی حکومتیں امن، ترقی، باہمی میل جول اور ترقی کے ایجنڈے پر چلیں گی۔کانگریس کے اہم ترجمان رندیپ سرجیوالا نے آج کہاکہ تریپورہ، ناگالینڈ، میگھالیہ کے لوگوں کو ہماری نیک خواہشات۔انہوں نے کہاکہ ہم سنجیدگی سے یہ امید اور دعا کرتے ہیں کہ نئی حکومتیں امن، ترقی، ساتھ مل جل کررہنے اور ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی۔سرجیوالا نے کہاکہ ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ لوگ بالخصوص نوجوانوں کے مسائل پر توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ ہر ہندوستانی بی جے پی کی طرف سے کسی بھی قیمت پر اور کسی بھی ذریعے سے اقتدار ہتھیائے جانے کو لے کر فکر مند ہے اور کیا اس کی وجہ سے پورے شمال مشرقی علاقے کو عدم استحکام کی طرف نہیں دھکیلا جا رہا ہے؟ سرجیوالا نے کہاکہ بی جے پی شمال مشرقی میں استحکام، تحفظ، امن و ترقی کو ذہن میں رکھے بغیر اتار چڑھاؤ، مسمار کرنے اور اقتدارمیں آکرخطرناک کھیل کھیل رہی ہے۔امید ہے کہ مودی جی راجیوجی سے سبق لیں گے جنہوں نے ہمیشہ ملک کو پہلے رکھا اور آسام اور میزورم سمجھوتہ کرکے خطے میں امن قائم کیا۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی اقتدار کی اندھی بھوک علاقے کے استحکام، جمہوریت کے پھیلاؤ اور علیحدگی پسند رجحانات کو قابو رکھنے میں آڑے آ رہی ہے اور علاقے کے اصل مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ بی جے پی نے آئی پی ایف ٹی کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔اس پارٹی نے ریاست کی تقسیم کو انتخابی ایشو بنایا تھا اور وہ ایک قبائلی وزیر اعلی کا مطالبہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ اب وقت آ گیا ہے کہ مودی حکومت،بی جے پی دونوں مسائل پر غور کریں۔کیا وہ تریپورہ ریاست کی تقسیم کی مانگ کی حمایت کرتی ہے؟ یاوہ قبائلی وزیر اعلی کی مانگ کو مسترد کرتی ہے؟کانگریس لیڈر نے کہا کہ ناگالینڈ میں بی جے پی آئی پی ایف ٹی کے ساتھ حکومت بنا رہی ہے اور اس نے اپوزیشن پارٹی این ڈی پی پی کے ساتھ اتحاد کرکے انتخاب لڑا تھا۔ این پی ایف کو 26سیٹیں ملی ہیں جبکہ این ڈی پی پی نے 18 سیٹیں جیتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ این پی ایف اور این ڈی پی دونوں حکومت بنانے کا دعوی پیش کر رہی ہیں تو کیا ناگالینڈ دوبارہ عدم استحکام کے دور میں داخل ہو رہا ہے جیسا کہ گزشتہ پانچ سال میں ہوا۔اور ناگا معاہدے کا کیا ہوگا؟کانگریس لیڈر نے کہا کہ منی پور میں بی جے پی اتحاد تین این پی پی ایف ممبران اسمبلی کی حمایت سے چلے گی۔انہوں نے کہا کہ ناگالینڈ بی جے پی کی طرف سیاین پی پی ایف (26ممبران اسمبلی)کو نظراندا ز کرکے این پی پی ایف (18ممبر اسمبلی)کے ساتھ حکومت بنانا کیا صرف اقتدار کے بڑے حصے کو ہتھیانہ نہیں ہے اور کیا اس سے منی پور میں حکومت کے استحکام پر خطرہ نہیں آئے گا۔
 


Share: